بھٹکل:10؍جون(ایس اؤ نیوز)ریاست کی سابقہ بی جے پی حکومت نے گئوکشی پرپابندی عائد کرنےوالا قانون منظورکرکے غریب کسانوں اورزراعت کرنے والوں کےلئے کتنی مشکلوں اور پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے اس کےلئے بھٹکل سے قریب 350 کلو میٹر دوراورکرناٹک کے دارالحکومت بینگلورسے قریب 120 کلو میٹر دورضلع ٹمکورکےتُرُوے کیرے میں پیش آنے والا یہ واقعہ تازہ مثال ہے۔
ٹمکورسے جاری کنڑا نیوز چینل ای دِینا (آج کا دن) کی رپورٹ کے مطابق تُروے کیرے تعلقہ کے جوڑگٹے میں ہراتوارکو جانوروں کا بازار لگتاہے۔ جہاں ایک طرف دیہاتوں سے لوگ اپنے جانور بیچتے ہیں توکئی دیہاتوں کے لوگ جانوروں کو خریدنے کے لئے بھی پہنچتے ہیں،4جون بروز اتوار کوہاویری کے کچھ کسان اس بازار سے جانوروں کو خرید کر واپس ہاویری جارہے تھے کہ اس دوران غنڈوں نے ان پر حملہ کردیا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اُن غنڈوں نے اپنے آپ کو گئورکھشنک اوربجرنگ دل کے ارکان بتایا۔ غنڈوں کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جانوروں کوقصائی خانے بیچنے کے لئے لے جارہے ہیں، جبکہ کسانوں نے بہت منت سماجت کی کہ وہ کسان ہیں اور کھیتی باڑی کے لئے جانوروں کو لے جایا جارہا ہے، کافی منت سماجت کے بعد غنڈوں نے پچاس ہزار روپیوں کامطالبہ کرنا شروع کردیا اور کہا کہ وہ رقم دینے کی شرط پر اُنہیں چھوڑ سکتے ہیں، اگر رقم نہیں دی گئی تو پھروہ پولس میں ان کے خلاف شکایت درج کریں گے اور قصائی خانہ لے جانے کا الزام عائد کرکے کسانوں کو اندر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق کسانوں نے کہا کہ اُن کےپاس اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔ جب کسانوں نے رقم نہیں دی تو بجرنگیوں نے پولس کو فون کرکے اُنہیں جائے وقوع پر بلایا اور پل بھرمیں تُرُوے کیرے پولس تھانہ کی جیپ جائے وقوع پر پہنچ گئی ۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی عوام بھی کثیر تعداد میں جمع ہوگئے جنہوں نے پولس کو بتایا کہ چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسان ہیں اورجانوروں کو دیکھنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والے جانور ہیں، مگر پولس، غنڈوں کی باتوں کو ہی قبول کرتے ہوئے جانوروں کی گاڑی کو تروے کیرے پولس تھانہ لے گئی، کسانوں کی بات مانیں توغنڈوں کی باتوں میں آکر پولس نے کسانوں کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی اورتمام جانوروں کوپولس تھانہ کے صحن میں باندھ دیا، رپورٹ کے مطابق دو دنوں تک جانوروں کو تھانہ کے صحن میں بغیر کوئی چارہ پانی دئے بھوکا پیاسا ہی رکھا گیا۔
بعد میں جب دوسرے کسانوں کو واقعے کی اطلاع ملی تو دودنوں بعد تروے کیری پولس تھانہ کے باہرکثیر تعداد میں کسان جمع ہوگئے اور پولس تھانہ کا گھیراو کرتے ہوئے کسانوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کرنےکا مطالبہ کرنے لگے،کسانوں نے جانوروں کو چھوڑنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ بجرنگ دل غنڈوں کے خلاف معاملہ درج کرنے اور اُن کا ساتھ دینے والے پولس اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔
معاملے کی اطلاع جب مقامی رکن اسمبلی ایم ٹی کرشنپا کوملی تو جے ڈی ایس سے تعلق رکھنے والے کرشنپا بنگلورو سے سیدھے تروےکیرے پولس تھانہ پہنچ گئے اورحالات کی جانکاری لیتے ہوئے پولس کو آڑے ہاتھ لیا۔ انہوں نے پولس کو تاکید کی کہ وہ فوراً جانوروں کو کسانوں کے حوالے کریں۔ کرشنپا کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ پولس اورغنڈوں کی ملی بھگت کا دھندہ ہے، انہوں نےوارننگ دی کہ بجرنگ دل اور گئو رکھشک کے نام پر ہنگامہ خیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
معاملے کو لے کر جب ڈی وائی ایس پی تروے کیرے پولس تھانہ پہنچے اورسب انسپکٹرکو حکم دیا کہ وہ بجرنگ دل کے غنڈوں کو گرفتارکرے تو بتایا گیا ہے کہ حیرت انگیزطور پرسب انسپکٹر نے اپنے اعلیٰ آفسر کی بات کو ماننے سے انکار کردیا اور بجرنگ دل والوں کے خلاف کیس درج کرنے کے بجائے کسانوں پر ہی کیس درج کردیا اوربندھے ہوئے جانوروں کوبھی واپس کسانوں کے حوالے نہیں کیا۔ جس کے بعد ڈی وائی ایس پی نے سب انسپکٹرہونے گوڈا کو معطل کرنے کے احکامات جاری کئے۔
لیکن کسانوں اورمقامی عوام کا مطالبہ ہے کہ بجرنگ دل کے اشارے پر ناچنےوالے سب انسپکٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اورکسانوں پر درج کیس کو رد کیاجائے۔ عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاست کے وزیر داخلہ کا تعلق اسی ضلع سے ہے، لہٰذا وہ اپنے ضلع میں پیش آنے والے اس معاملے پر توجہ دیں اور مینگلورمیں انہوں نے اخلاقی پولس گیری کے نام پر ہورہی غنڈہ گردی کے بارے میں سخت کاروائی کرنے کا جو انتباہ دیا تھا، اپنے ضلع کے غنڈوں کے ساتھ بھی اُس طرح کی سخت کاروائی کرنے کے احکامات جاری کریں۔
متعلقہ نیوز چینل نے اپنی رپورٹ میں پولس تھانہ کے باہر جمع کئی کسانوں اورعام لوگوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرکے نشر کئے ہیں جس میں سبھی لوگوں نے بجرنگ دل کی غنڈہ گردی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اُن کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔